یار دیکھا تھا: اسامہ سومرو

شب راحت کو روح تڑپتے ہیں۔ایسا کل خواب دیکھا تھا۔۔۔!!سرہانے تکیا لیکر سورہا تھاایسا کل رات دیکھا تھا۔۔۔!! الجھ کر سمجھ رہا تھا سمجھ کر الجھ رہا تھاایسا کل پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔!!خدا جانے کیا مطلوب تھا تمہیںایسا کل مینے تمہیں یار دیکھا تھا۔۔۔!!

عنوان (نظم ضروری تو نہیں)

کرنی بھی تو،چند باتیں ہیں تھیں۔۔۔!!میرا درست لہجہ ہو، یے ضروری تو نہیں۔۔۔!! نشے میں تھے ہم، تیری آنکھیں دیکھ کر۔۔۔!!ہر نشہ جام سے ہو، یے ضروری تو نہیں۔۔۔!! بہکے ہوئے لوگ، اکثر شاعری پے اتر آتے ہیں۔۔۔!!ہر شاعری ہو نظم، یے ضروری تو نہیں۔۔۔!! دیکھ رہے ہو ایسے جیسے شکایت کروگے خداسے۔۔۔!!بھلا ہر بات …

Create your website with WordPress.com
Get started