چلو آج کچھ کھویا جائے،چلو آج جم کے سویا جائے،دوستوں نے بھی کیا ہے اچھا ستم،چلو آج جی بھر کے رویا جائے،ماننے اور منانے کا دور آب کہاں،چلو باتوں باتوں میں زباں سے خون نچوڑا جائے،چلو آج جم کے سویا جائے،چلو آج جم کے سویا جائے،

میڈم کہانی ابھی ادھوری ہے۔۔۔۔! اسامہ سومرو

اب میں تم سے نہیں تمہاری شخصیت سے محبت کرونگا،کیونکہ سب سے پہلے تمہاری شخصیت سے محبت ہوئی تھی مجھے،ویسے بھی محبت جسموں کی محتاج تھوڑی ہے، وہ تو تمہارے بغیر بھی تم سے ہو سکتی ہے۔۔۔۔مجھے بس اس بات کا غلا ہے کہ کہیں، میری محبت کو تم میرا مزاج نا سمجھ بیٹھو جو …

هي حسرتون ء نفرتون اسان لاء ئي آهن. هي گمان هي محبتون اسان لاء ئي آهن. جي منڪر اهي ٿيا محبت جا ته ڇا. اهي سڀ پيچرا ء وجائون اسان لاء ئي آهن. اسامه سومرو

تم نہیں ہوتی: اسامہ سومرو۔

اچھا نہیں لگتا جب بات نہیں ہوتی۔۔۔چھپ چھپ کر ملاقات نہیں ہوتی۔۔۔ باد صبا روٹھ جائے تب بھی غم نہیں۔۔۔بہار بھی ہو  تو شروعات نہیں ہوتی۔۔۔ شام سے رات ہوجاتی ہے، دشت تنہائی میں۔۔۔عجب الفت ہے اس شب غم کی سحر نہیں ہوتی۔۔۔ رک جائیں یا کوچ کر جائیں، تیری محفل سےمگر یے حقیقت ہے …

ہمارا مسئلہ محبت کب ہے دکھ یے ہے کہ دل کبھی لگا ہی نہیں

ہم کبھی متاثر ہی نہی  ہوئے کسی سے،چی گویرا نے کہا تھا، محبت کہ بغیر انسان کسی بھی محاذ پر ڈٹ کر کھڑا نہیں رہ سکتا، مگر دھرتی کی محبت کہ الاوہ مرشد نے کچھ اور نہیں بتایا۔ جدید دنیا میں ہمیں محبت سرمائے کے بستر پر سوتی نظر آئی۔ پر ہمیں عشق میں کمیونزم …

میرا دشمن دوست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!تحریر:اسامہ سومرو

میرا دشمن دوست ہے وہ۔لیکن دشمن ہے وہ۔مجھے جینے نہیں دیتا۔سکوں سے بیٹھنے نہیں دیتا۔کیا کسی دوست سے کم ہے وہ۔نہیں، پر میرا دشمن ہے وہ۔اب تو عادت سی ہوگئی ہے۔اب یے سحر تاری ہوگئی ہے۔میں بھٹک کر بھاگ نہیں سکتا۔کھلے عام راج نہیں کرسکتا۔اسکو مار بھی نہیں سکتا۔وہ ویرانے میں دشمنی کا سہارا ہے۔اب …

وہ لڑکی خوبصورت لگتی ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔!!!! تحریر :اسامہ سومرو

وہ لڑکی خوبصورت لڑکی ہے، عاشق نہیں لگتی،مگر میں یے کیسے کہوں کہ وہ کیسی لڑکی ہے، دل تو کہتا کہ وہ اپسرائوں جیسی ہے، اندازا کہتا ہے عاشق نہیں لگتی۔مگر میں یے کیسے کہوں کہ وہ کیسی لڑکی ہے۔ اس کی فقت آنکھیں جو دیکھ لے وہ وہیں پر فدا ہوجائے، باقی تو سمبارا …

سانحہ مچ اور مذہب کہ نام پر قتل کرادیے گئے ہر عام و معصوم انسان کہ قتل کہ مذمت کرنے کہ حوالے سے لکھی گئی نظم۔ سب کو مار دیا کر:اسامہ سومرو

سب کو مار دیا کر: اسامہ سومرو مالک کہتا ہے یے تم میں سے نہیں انہیں مار دیا کر،یے حق مانگتے ہیں، انہیں مار دیا کر،سارے کہتے ہیں تمہارا نصب فرئونیت سے ملتا ہے،مارکر موسائوں کو انہیں بتلادیا کر، بات یہاں مذہب کی نہیں اے میرے پالتو،یہاں پر قومیت پر لوگوں کو مار دیا کر،تم …

آنلائن کلاسز کی مناسبت سے احتجاجن لکھا گیا شعر پیش خدمت ہے۔۔۔۔۔!!(آءو رسرچ کریں)

ختم ہوگیا سیکھنے سکھانے کا معیار، آءو رسرچ کریں۔دل برداشتہ ہے مگر ڈگری لینی ہے، پھر آءو رسرچ کریں۔ گھس گھس کر رسرچ نے جو جلادی چمڑی__کی،برنال لگانے والے نے بھی کہا، آءو رسرچ کریں۔ حسین شامیں کئیں گزر گئیں غمیں رسوائی میں،ہر اس شام نے کہا، جانوں آءو رسرچ کریں۔ ختم ہوجائے گی یے …

Create your website with WordPress.com
Get started